تازہ ترین :
ڈی پی او ٹوبہ عثمان گوندل کا ون ویلنگ، پتنگ بازی ، جواء کے اڈوں اور شادی کی تقریبات پر ہوائی فائرنگ کی خلاف ورزی پر سخت کاروائی کرنے کا حکم ۔۔۔۔ ۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ : ریجنل پولیس آفیسر بلال صدیق کمیانہ کا ٹوبہ ٹیک سنگھ کا دورہ جرائم کی شرع اور امن و امان کی صورتحال کا جائزہ ۔۔۔۔ ۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ : نئی سبزی وپھل منڈی کے تعمیراتی کام کو رواں ماہ کے آخر تک معیار کے ساتھ پورا کیا جائے : ڈی سی عرفان نواز میمن ۔۔۔۔ ۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ : شہر اور گردو نواح میں سرچ آپریشنز ، مشتبہ افراد کی بائیو میٹرک سے چیکنگ ۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔ٹوبہ ٹیک سنگھ : بازاروں میں انکروچمنٹ ختم نہ ہونے سے بازاروں میں خریداری کے لیے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ : شہرجگہ جگہ غیر قانونی رکشہ اسٹینڈ قائم ٹریفک کی روانی شدید متاثر۔۔۔۔ ۔
Home » , , , , » ٹوبہ ٹیک سنگھ تاریخ کے آئینے میں !

ٹوبہ ٹیک سنگھ تاریخ کے آئینے میں !

Mian Saud IT Solutions نے شائع کیا 30/08/2015 | Sunday, August 30, 2015

نوٹ : اس تحریر کو ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تاریخ لوگوں میں عام کرنے کےلیے سجاگ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے لیا گیا۔ ٹوبہ نیوز اس تحریر سے کوئی بھی فوائد معاشی یا سیاسی فوائد حاصل کرنے کا خواہشمند نہیں اس لیے اسے مفاد عامہ کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔
تحریر شیخ عبدالقیوم جاوید

ٹوبہ ٹیک سنگھ: پاکستان کا لینن گراڈ



"ایک روایت کے مطابق انگریز سرکار کے دور میں ڈاکیا "ٹیک سنگھ" جھنگ سے ڈاک لا کر مقامی لوگوں تک پہنچاتے تھے اور اپنی نوکری کے ساتھ ساتھ خدمت خلق کے لیے مسافروں کو پانی بھی پلایا کرتے تھے۔"
یہ کہنا ہے شاہد محمود کا جو ٹوبہ کے گورنمنٹ اسلامیہ ہائی اسکول میں ایس ایس ٹی ٹیچر ہیں اور ان دنوں ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تاریخ مرتب کرنے میں مصروف ہیں۔
شاہد بتاتے ہیں کہ دوسری روایت کے مطابق ٹیک سنگھ ایک درویش منش انسان تھے جنھوں نے کمالیہ اور جھنگ سے آنے والے مسافروں کی تکالیف دیکھتے ہوئے گزرگاہ کے قریب درخت اگائے۔ جہاں مسافر کچھ دیر آرام کی غرض سے رُک جاتے تھے۔
"یہاں مسافروں کی تواضح مٹکے میں موجود ٹھنڈے پانی اور بھنے ہوئے چنوں سے کی جاتی تھی جبکہ قریبی تالاب میں جانوروں کے پینے کے لیے بارش کا پانی اکٹھا ہوتا تھا۔"
انھوں نے مزید بتایا کہ ٹوبہ کا لفظی مطلب "چھپڑ" یا "تالاب" ہے اور اسی مناسبت سے اسے 'ٹیک سنگھ کا ٹوبہ' کہا جاتا تھا جو کہ بدلتے بدلتے ٹوبہ ٹیک سنگھ ہو گیا۔
ان کے مطابق جب ٹوبہ سے ریل گزاری گئی تو ریلوے اسٹیشن ٹیک سنگھ کے تالاب کے پاس بنایا گیا جہاں انھوں نے مسافروں کو پانی پلانے کا سلسلہ جاری رکھا۔
یہ تالاب سابق ڈی سی او نسیم صادق کے دور میں موجود تھا جنھوں نے اس جگہ "ٹیک سنگھ پارک" بنوایا اور ٹیک سنگھ کے بیٹھنے کی جگہ مٹکے رکھوا کر سجا دی۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تاریخ کے بارے ان کا کہنا تھا کہ 1880 کی دہائی میں انگریزوں نے ٹوبہ میں آباد کاری اور نہریں نکالنے کا کام شروع کیا جس کے بعد مختلف علاقوں سے لوگوں کو زمین الاٹ کر کے یہاں بسایا گیا۔
"زمین کی زرخیزی اور فصلوں کی اچھی پیداوار کو دیکھتے ہوئے یہاں کے کسانوں پر سرکار کی جانب سے ٹیکس لگانے کا سلسلہ شروع ہوا جس میں کاٹے جانے والے درختوں اور اجناس کی سرکار کے علاوہ کسی دوسرے کو فروخت پر پابندی لگائی گئی۔"
اس ناانصافی کو دیکھتے ہوئے کسانوں نے اپنی تحریک کا آغاز کیا اور یہی وجہ ہے کہ 19 ویں صدی کے بائیں بازو کے کسان رہنماؤں کی اکثریت ٹوبہ سے تعلق رکھتی تھی.

وہ کہتے ہیں کہ اسی پس منظر کے باعث 70 کی دہائی میں آل پاکستان کسان کانفرنس کی میزبانی بھی ٹوبہ ٹیک سنگھ کے حصہ میں آئی۔ جس میں مشرقی اور مغربی پاکستاں کے کسان رہنماؤں اور بائیں بازو کی جماعتوں نے بھر پور شرکت کی۔ بعدازاں اس کانفرنس کے جواب میں سنی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔
ان دونوں کانفرنسوں میں ٹوبہ ٹیک سنگھ کا نیا نام زیر غور آیا۔
ٹوبہ میں کسان کمیٹی کے صدر چوہدری فتح محمد نے بتایا کہ وہ اس تاریخی کانفرنس میں اسٹیج سیکرٹری کی حیثیت سے موجود تھے۔
"وہ ایک تاریخ ساز دن تھا، ہر طرف سرخ جھنڈے لہرا رہے تھے اور عوام 'ایشیا سرخ ہے' کے نعرے لگا رہی تھی۔ مشرقی پاکستان سے مولانا عبدالحمید خان بھاشانی اس کانفرنس کے لیے خصوصی طور تشریف لائے تھے۔"
ان کا کہنا تھا کہ کانفرنس میں ٹوبہ کی مزدوروں کے لیے تاریخی حیثیت کو دیکھتے ہوئے اسے روس میں مزدور لیڈر لینن کے نام سے منسوب شہر کی طرح "پاکستان کا لینن گراڈ" کا خطاب دیا گیا تاہم قائدین کی طرف سے شہر کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا تھا۔
جماعت اہلسنت کے رہنما مولانا صاحبزادہ منعم صدیقی نے بتایا کہ کسان کانفرنس میں "سوشلزم زندہ باد" کے نعرے لگائے گئے اور ٹوبہ کو 'لینن گراڈ' کا نام دینے کا مطالبہ کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس کے جواب میں سنی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور اسلام دشمن عناصر کے دئیے گئے نام کو مسترد کرتے ہوئے جماعت کی طرف سے شہر کو "دارالسلام ٹوبہ" کا نام دینے کا اعلان ہوا۔
رکن صوبائی اسمبلی میاں محمد رفیق کا کہنا ہے کہ وہ اس کانفرنس میں شریک تھے اور وہاں اس قسم کا کوئی مطالبہ یا نعرہ نہیں لگایا گیا تھا۔
" یہ سب چند تنگ نظر لوگوں کی شرارت تھی جنھوں نے یہ نام ہماری تنظیم کے ساتھ منسوب کر دیا۔ ہم تو یہی چاہتے ہیں اس کا نام ہمیشہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ہی رہے۔ کانفرنس میں صرف مزدوروں کی فلاح اور ان کے حقوق کے حوالے سے مطالبات کیے گئے تھے۔"
واضح رہے کہ بعد ازاں نئے نام ''دارالسلام ٹوبہ'' کی منظوری کے لیے تظیم اہلسنت نے عدالت میں تحریری درخواست جمع کروائی جس پر اس نام کے حق اور مخالفت میں دلائل دئیے گئے۔
تاہم عدالت نے ٹیک سنگھ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ شہر کا موجودہ نام ٹوبہ ٹیک سنگھ برقرار رکھا جائے گا۔
Share this article :

Google ads

اصلاح پروگرام

اصلاح پروگرام

ٹوبہ نیوز

ٹوبہ نیوز

ہم سے رابطہ کریں

Name

Email *

Message *

مقبول خبریں

 
Company Info | Contact Us | Privacy policy | Term of use | Widget | Advertise with Us | Site map
Copyright © 2011. TOBA NEWS . All Rights Reserved.
Design Template by Saud Ahmed | Support by creating website | Powered by Blogger